Which Olympics was the best in the 21st century?

Image
Determining the "best" Olympics of the 21st century is subjective and depends on the criteria used, such as organization, cultural impact, athletic performance, or legacy. However, a few Olympic Games stand out for their unique contributions and memorable moments::   London 2012 Why It Stands Out : London 2012 is often hailed as one of the best Olympics due to its successful organization, vibrant atmosphere, and stunning opening ceremony. The games were marked by exceptional athletic performances, such as Usain Bolt’s dominance in track and field and Michael Phelps’ record-breaking swimming feats. London’s ability to seamlessly blend history with modernity, including the integration of new technologies, made it a standout event. Legacy : The regeneration of East London, especially the Olympic Park, is considered a long-lasting positive legacy for the city.   Beijing 2008 Why It Stands Out : Beijing 2008 was a...

ختمِ نبوت ﷺ موضوعِ بحث ہی نہیں ! کیوں؟

7ستمبر ۔ کیا ہے یہ؟

عالمِ اسلام کے لئے ایک فتنہ سے آزادی کا دن ۔ ایک سکھ کا سانس لینےکا دن۔ اہلِ ایمان کے لئے راحت و سکون کا دن۔ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی عید کا دن

"ختم ِ نبوت کا آئین "

سلام اس مردِ قلندر "احمد شاہ نورانی صاحب" پر جنہوں نے امت ِ محمدیہ ﷺ کے لئے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔  ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ختم ِ نبوت کے آئین پر دستخط کرتے ہوئے تاریخی الفاظ دہرائے تھے کہ

 

"میں ختم ِ نبوت کے آئین پر نہیں بلکہ اپنی موت کےپروانے پر دستخط کر رہا ہوں"

 

ایک دن دل میں خیال آیا کہ ہم دشمن سے کس بات کا گلہ کرتے ہیں اور کیوں کرتےہیں کہ وہ ختم ِ نبوت پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں یا ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں؟ حالانکہ ختم ِ نبوت کی مخالفت کرنے والے سچ کہتےہیں کہ وہ اس عقیدہ کو اتنا نقصان نہیں پہنچا رہے جتنا اس  پر اپنی جان قربان کرنے والے پہنچا رہے ہیں۔  کہ وہ جان دینے سے تو دریغ نہیں کرتے مگر کیا کبھی انہوں نے عملی طور پر اس کی حفاظت کےلئے مستقل بنیاد پر اقدامات کئے؟  اس آئین کی منظوری کے بعد سے اب تک کبھی کسی نے اس کو سمجھنے یا سمجھانےکی کوشش کی کہ ختم ِ نبوت ہے کیا؟ یہ کیوں ضروری ہے؟  اس کی اہمیت کیوں لاحق ہوئی؟

 

کیا کبھی کسی نے اپنے گھر میں  اپنی اولاد کو ختم ِ نبوت کے بارے میں بتانے یا سمجھانے کی کوشش کی؟

 

ہرگز نہیں کی۔ جب یہ زحمت ہی نہیں کی تو ختم ِنبوت کے مخالفین کو کیا پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنا وقت، اپنا سرمایہ ایک ایسے کام میں ضائع کریں ۔ جو رفتہ بہ رفتہ خود بخود ختم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ درخت جس کے لگانے کے لئے نہ جانے کس نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ اس درخت کی چھاؤں میں بیٹھنے کےلئے تو آج سب تیار ہیں مگر اس درختِ ذیشاں کی آبیاری کے لئے کوئی سرگرمِ عمل ہی نہیں ہے۔  اس نایاب ِدرخت ِ بہاراں سے لطف اندوز ہونے والے اس کی میٹھی میٹھی خوشبو کے پیچھے چھپے درد ناک عطر کو کیوں جاننے کی کوشش نہیں کرتے ، کیوں ؟

افسوس تو یہ ہے کہ آج ہمیں معلوم ہی نہیں کی 07 ستمبر اپنے دامن میں کیا چھپائے ہوئے ہے۔  حالانکہ یہ عقیدہ ہر چھوٹے بڑے ، مرد و عورت کے  سب سے افضل ترین ہے۔ پھر کیوں ہم غفلت میں پڑے ہوئے ہیں؟ اگر ہمارا یہی حال رہا تو وہ دن دور نہیں کہ جب یہ ختم نبوت کا آئین ماضی کا حصہ بن کر ہمارے دل و دماغ سے نکل کر تاریخ کےگرد آلود اوراق میں دفن ہوکر رہ جائے گا۔

 

عہد ِ تجدید

آئیں ہم مل کر عہد کریں کہ آئین ِ پاکستان کے تحت ختمِ نبوت ﷺکو سمجھیں گے، اس پر صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور آئین کی پاسداری کریں گے۔آئین کے خلاف نہ خود کسی سرگرمی میں حصہ لیں گے اور نہ کسی حصہ لینے والوں کے آلہ کار بنیں گے۔ ختمِ نبوت ﷺ پر پہرا بھی دیں گے اور پہرا دینے والوں کا ساتھ بھی دیں ۔  اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت / زندگی کے معمولات میں بھی اس عقیدہ کو شامل کریں گے۔

 

ایمان کا حصہ

ختم ِ نبوت ﷺ کا اقرار، اس کو تسلیم کرنا اور اس کا پرچار مسلمان کے لئے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔



ختمِ نبوت ﷺ موضوعِ بحث ہی نہیں ! کیوں؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم پاکستان "عمران خان" نے اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس میں قرآن و حدیث کے الفاظ کو بیان کرتے ہوئے اہل اسلام کے امنگوں کی ترجمانی ِاحسن کی کہ

"جب اللہ رب العزت اور خاتم النبین ﷺ نے ختم ِ نبوت ﷺ پر مہر ثبت فرمادی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو پھر ختمِ نبوت پر بحث کس بات کی۔ کیونکہ بحث تو اس بات پہ ہوتی ہے جس میں کوئی شک شبہ کی گنجائش ہو"

 

خلاصہ

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ختم ِ نبوت کے آئین ِ پاکستان کو سمجھیں ۔ اس کے مطابق جو امور مسلمان کے ذمہ ہیں ان کو سرانجام دیں۔اپنی اولاد کی زندگی / ان کی تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ بنائیں ۔ گاہے بگاہے ان کو عملی طور پر روشناس کروائیں۔ لیکن اس بات پر سختی سے عمل کریں کہ آئین ِ پاکستان کے تحت اقلیت کو حقوق دیئے گئے ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔  کسی قسم کی لاپرواہی / کمی کوتاہی کی وجہ سے قانون کی بالادستی کا ہمیشہ خیال رکھا جائے۔ شکایت کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رہنمائی لی جائے۔ ہر قسم کی مذہبی نفرت سے اجتناب کیا جائے اور دوسروں کو اس پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ تبھی اسلامی جمہوریہ  پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

آپ کے دماغ کے “کھوج لگانے/تلاش کرنے کا نظام” کو فعال کرنے کا طریقہ

Which Olympics was the best in the 21st century?

What should someone do if they accidentally lose or misplace their cryptocurrency on an exchange or elsewhere?