Which Olympics was the best in the 21st century?
Explore Suffah Place of Knowledge for a diverse range of topics including trends, lifestyle tips, technology insights, and entertainment. We provide fresh, informative, and entertaining posts that keep you updated and inspired. Join our community and stay connected with the content that matters most. Social Blog, Trends, Lifestyle Tips, Technology Insights, Entertainment, blogging tips and tricks
7ستمبر
۔ کیا ہے یہ؟
عالمِ اسلام کے لئے ایک فتنہ سے آزادی کا دن ۔ ایک سکھ کا
سانس لینےکا دن۔ اہلِ ایمان کے لئے راحت و سکون کا دن۔ عاشقانِ مصطفیٰ ﷺ کی عید کا
دن
"ختم ِ نبوت کا آئین "
سلام اس مردِ قلندر "احمد شاہ نورانی صاحب" پر
جنہوں نے امت ِ محمدیہ ﷺ کے لئے یہ کارنامہ سرانجام دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ختم ِ نبوت کے آئین
پر دستخط کرتے ہوئے تاریخی الفاظ دہرائے تھے کہ
"میں ختم ِ نبوت کے آئین پر نہیں بلکہ اپنی موت
کےپروانے پر دستخط کر رہا ہوں"
ایک دن دل میں خیال آیا کہ ہم دشمن سے کس بات کا گلہ کرتے
ہیں اور کیوں کرتےہیں کہ وہ ختم ِ نبوت پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں یا ڈاکہ ڈالنے کی کوشش
کرتے ہیں؟ حالانکہ ختم ِ نبوت کی مخالفت کرنے والے سچ کہتےہیں کہ وہ اس عقیدہ کو
اتنا نقصان نہیں پہنچا رہے جتنا اس پر
اپنی جان قربان کرنے والے پہنچا رہے ہیں۔ کہ وہ جان دینے سے تو دریغ نہیں کرتے مگر کیا
کبھی انہوں نے عملی طور پر اس کی حفاظت کےلئے مستقل بنیاد پر اقدامات کئے؟ اس آئین کی منظوری کے بعد سے اب تک کبھی کسی نے
اس کو سمجھنے یا سمجھانےکی کوشش کی کہ ختم ِ نبوت ہے کیا؟ یہ کیوں ضروری ہے؟ اس کی اہمیت کیوں لاحق ہوئی؟
کیا کبھی کسی نے اپنے گھر میں اپنی اولاد کو ختم ِ نبوت کے بارے میں بتانے یا
سمجھانے کی کوشش کی؟
ہرگز نہیں کی۔ جب یہ زحمت ہی نہیں کی تو ختم ِنبوت کے
مخالفین کو کیا پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ اپنا وقت، اپنا سرمایہ ایک ایسے کام میں
ضائع کریں ۔ جو رفتہ بہ رفتہ خود بخود ختم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ درخت جس کے لگانے کے
لئے نہ جانے کس نے کیا کیا قربانیاں دی ہیں۔ اس درخت کی چھاؤں میں بیٹھنے کےلئے تو
آج سب تیار ہیں مگر اس درختِ ذیشاں کی آبیاری کے لئے کوئی سرگرمِ عمل ہی نہیں ہے۔ اس نایاب ِدرخت ِ بہاراں سے لطف اندوز ہونے
والے اس کی میٹھی میٹھی خوشبو کے پیچھے چھپے درد ناک عطر کو کیوں جاننے کی کوشش نہیں
کرتے ، کیوں ؟
افسوس تو یہ ہے کہ آج ہمیں معلوم ہی نہیں کی 07 ستمبر اپنے
دامن میں کیا چھپائے ہوئے ہے۔ حالانکہ یہ
عقیدہ ہر چھوٹے بڑے ، مرد و عورت کے سب سے
افضل ترین ہے۔ پھر کیوں ہم غفلت میں پڑے ہوئے ہیں؟ اگر ہمارا یہی حال رہا تو وہ دن
دور نہیں کہ جب یہ ختم نبوت کا آئین ماضی کا حصہ بن کر ہمارے دل و دماغ سے نکل کر
تاریخ کےگرد آلود اوراق میں دفن ہوکر رہ جائے گا۔
عہد ِ تجدید
آئیں ہم مل کر عہد کریں کہ آئین ِ پاکستان کے تحت ختمِ نبوت
ﷺکو سمجھیں گے، اس پر صرف الفاظ کی حد تک نہیں بلکہ عملی طور آئین کی پاسداری کریں
گے۔آئین کے خلاف نہ خود کسی سرگرمی میں حصہ لیں گے اور نہ کسی حصہ لینے والوں کے
آلہ کار بنیں گے۔ ختمِ نبوت ﷺ پر پہرا بھی دیں گے اور پہرا دینے والوں کا ساتھ بھی
دیں ۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت /
زندگی کے معمولات میں بھی اس عقیدہ کو شامل کریں گے۔
ایمان کا حصہ
ختم ِ نبوت ﷺ کا اقرار، اس کو تسلیم کرنا اور اس کا پرچار
مسلمان کے لئے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے بغیر ایمان نامکمل ہے۔
ختمِ نبوت ﷺ موضوعِ بحث ہی نہیں ! کیوں؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم پاکستان
"عمران خان" نے اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس میں قرآن و حدیث کے الفاظ کو
بیان کرتے ہوئے اہل اسلام کے امنگوں کی ترجمانی ِاحسن کی کہ
"جب اللہ رب العزت اور خاتم النبین ﷺ نے ختم ِ نبوت ﷺ
پر مہر ثبت فرمادی کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو پھر ختمِ نبوت پر بحث کس بات
کی۔ کیونکہ بحث تو اس بات پہ ہوتی ہے جس میں کوئی شک شبہ کی گنجائش ہو"
خلاصہ
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ختم ِ نبوت کے آئین ِ پاکستان کو سمجھیں ۔ اس کے مطابق جو امور مسلمان کے ذمہ ہیں ان کو سرانجام دیں۔اپنی اولاد کی زندگی / ان کی تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ بنائیں ۔ گاہے بگاہے ان کو عملی طور پر روشناس کروائیں۔ لیکن اس بات پر سختی سے عمل کریں کہ آئین ِ پاکستان کے تحت اقلیت کو حقوق دیئے گئے ان کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ کسی قسم کی لاپرواہی / کمی کوتاہی کی وجہ سے قانون کی بالادستی کا ہمیشہ خیال رکھا جائے۔ شکایت کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رہنمائی لی جائے۔ ہر قسم کی مذہبی نفرت سے اجتناب کیا جائے اور دوسروں کو اس پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے۔ تبھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔
Comments
Post a Comment